عزیزاللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، کوئٹہ
|
 |
 |
|
| بلوچستان لبریشن آرمی کے ترجمان بیبرگ بلوچ کے طور پر ٹیلیفون کے ذریعے اخباری نمائندوں کو بتایا گیا کہ بالاچ مری ہلاک ہوگئے ہیں |
بلوچستان سے سابق رکنِ اسمبلی بالاچ مری کے بھائی گزن مری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ نوابزادہ بالاچ مری ایک کارروائی میں ہلاک ہوگئے ہیں اور ان کی ہلاکت پر بلوچستان کے بیشتر شہروں میں ہنگامے ہوئے ہیں۔
کوئٹہ میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور انسپکٹر سمیت تین زخمی ہوئے ہیں جبکہ دکانوں گاڑیوں اور سرکاری دفاتر پر پتھراؤ کیا گیا ہے اور بعض مقامات سے آگ لگانے کی اطلاعات ہیں۔
کوئٹہ میں سریاب روڈ پر مشتعل مظاہرین نے بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے گاڑیوں کے شیشے توڑے اور دکانوں کو آگ لگا دی ۔ کوئٹہ کے پولیس افسر رحمت اللہ نیازی نے بتایا ہے کہ بروری کے علاقے میں ایک ایمبلینس کو آگ لگائی گئی ہے۔
اطلاع ہے کہ بروری کے قریب نا معلوم افراد نے پولیس کی گشتی گاڑی پر فائرنگ کی جس سے ایک اہلکار ہلاک اور ایک انسپکٹر سمیت تین اہلکار زخمی ہوگئے۔ پٹیل روڈ پر نا معلوم افراد نے ایک حجام کی دکان پر دستی بم پھینکا ہے لیکن کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔
ادھر نوشکی سے مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ مظاہرین نے الیکشن آفس پر حملہ کیا ہے اور ایک سرکاری گاڑی کو آگ لگا دی گئی ہے۔ نوشکی میں جگہ جگہ پولیس اور ایف سی کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
ادھر خضدار سے آمدہ اطلاعات کے مطابق مشتعل طلبا نے ایک بینک اور دکانوں پر پتھراؤ کیا ہے اور پولیس نے مشتعل مظاہرین کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج کا استعمال کیا ہے۔ نو افراد کی گرفتاری کی اطلاع ہے۔ تربت اور گوادر سے بھی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
اس کے علاوہ سبی کے قریب نا ملعوم افراد نے ریل کی پٹڑی کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جس کے بعد ریل گاڑیوں کی آمدو رفت کو روک دیا گیا ہے۔
اس سے قبل نے بالاچ مری کے بھائی گزن مری نے بتایا تھا کہ انہیں منگل کی رات ایک ساتھی نے اس آپریشن کی اطلاع دی لیکن وہ اپنے دیگر ساتھیوں کی حفاظت کے پیش نظر وہ مقام بتانے سے قاصر ہیں جہاں یہ آپریشن ہوا ہے۔
گزن مری نے یہ بھی بتایا کہ بالاچ مری کی آخری رسومات کے لئے خاندان کے افراد مل کر کوئی فیصلہ کریں گے اور ان کی کوشش ہوگی کہ ایسا نہ ہو جیسا نواب اکبر بگٹی کے وفات کے بعد ان کی آخری رسومات کے ساتھ ہوا تھا۔
اس سے قبل اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے بیبرگ بلوچ نے ٹیلیفون پر کہا تھا کہ میر بالاچ مری گزشتہ دنوں ایک کارروائی میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ بالاچ مری پاک افغان سرحد کے قریب بلوچستان کے علاقہ نوشکی کے قریب سر لچ کے مقام پر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں ہلاک ہوئے ہیں۔
سرکاری سطح پر اس واقعہ کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا گیا ہے۔
یاد رہے کچھ عرصہ قبل بھی اسی طرح کی خبر گردش کر رہی تھی کہ نوابزادہ بالاچ مری ایک کارروائی میں ہلاک ہو گئے ہیں لیکن اس وقت کہیں سے اس واقعہ کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی جبکہ مری اتحاد کے ترجمان نے اس خبر کی تردید کر دی تھی۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال چھبیس اگست کو نواب اکبر بگٹی کی ڈیرہ بگٹی میں ہلاکت سے پہلے نوابزادہ بالاچ مری کبھی کبھار ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے رابطہ کر لیا کرتے تھے لیکن اس واقعہ کے بعد بالاچ مری نے کسی صحافی سے رابطہ نہیں کیا تھا ہاں یہ ضرور ہوا کہ ان کے نام سے بیانات جاری ہوتے رہے ہیں۔
بلوچستان: شدید رد عمل، پانچ ہلاک
|
عزیزاللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، کوئٹہ
|
 |
 |
|
| ہنگاموں کے بعد کوئٹہ میں تمام تعلیمی ادارے بند اور سالانہ امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ |
کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے خفیہ ایجنسی کے ایک سب انسپکٹر سمیت تین افراد کو ہلاک کر دیا ہے جس کے بعد موجودہ ہنگاموں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔ پولیس نے تقریباً تیس افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں زیادہ تعداد طلباء کی ہے۔
کوئٹہ کے ایک پولیس آفیسر رحمت اللہ نیازی نے بتایا کہ سیٹلائیٹ ٹاؤن میں قلات سٹریٹ میں ایک دکان پر تین افراد بیٹھے تھے جن پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی ہے جس سے انٹیلیجنس بیورو کے ایک سب انسپکٹر سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے بروری ے علاقے میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے پولیس کے دو اہلکاروں کو ہلاک اور تین کو زخمی کر دیا تھا۔
رحمت اللہ نیازی کے مطابق پولیس نے ان ہنگاموں کے دوران تقریباً تین افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں زیادہ تعداد طلبا کی ہے۔
یاد رہے نوابزادہ بالاچ مری کی ہلاکت کی خبر کے بعد ہنگامے بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے شروع ہوئے تھے جب گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے گئے اور بروری روڈ پر میڈیکل کالج کے قریب ایک ایمبولنس کو آگ لگا دی گئی تھی۔
 |
بالاچ مری کی ہلاکت
 نوابزادہ بالاچ مری کی ہلاکت کی خبر کے بعد ہنگامے بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے شروع ہوئے تھے جب گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے گئے اور بروری روڈ پر میڈیکل کالج کے قریب ایک ایمبولنس کو آگ لگا دی گئی تھی۔ 
| ان ہنگاموں کے بعد کوئٹہ میں تمام تعلیمی ادارے بند اور سالانہ امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔
گوادر، تربت اور جیونی سے کشیدگی کی اطلاعات ہیں جہاں سے مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ ایک سرکاری دفتر کو آگ لگائی گئی ہے۔ شام کے وقت دکانیں اور کاروباری مراکز بند کر دیے گئے تھے اور بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے قائدین کی گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
اس سے پہلے کوئٹہ میں پٹیل روڈ پر نامعلوم افراد نے ایک حجام کی دکان پر دستی بم پھینکا ہے لیکن کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔
نوشکی سے مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ مظاہرین نے الیکشن آفس پر حملہ کیا ہے جہاں پتھراؤ کے ساتھ ساتھ عمارت کو اور ایک سرکاری گاڑی کو آگ لگا دی گئی ہے۔ نوشکی میں جگہ جگہ پولیس اور ایف سی کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
ادھر خضدار سے آمدہ اطلاعات کے مطابق مشتعل طلباء نے ایک بینک اور دکانوں پر پتھراؤ کیا ہے اور پولیس نے مشتعل مظاہرین کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا ہے۔ نو افراد کی گرفتاری کی اطلاع ہے۔ تربت اور گوادر سے بھی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
سبی کے قریب ناملعوم افراد نے ریل کی پٹڑی کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جس کے بعد ریل گاڑیوں کی آمدو رفت کو روک دیا گیا ہے۔
کاہان کا بالاچ
|
مظہر زیدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
|
 |
 |
وفاداری بلوچستان سے
 بالاچ مری نے سن دوہزار دو میں صوبائی اسمبلی میں حلف لیتے وقت پاکستان سے وفاداری کی بجائے بلوچستان سے وفاداری کا نعرہ بلند کیا تھا تو ایوان میں بڑی ہلچل مچی۔ 
گزن مری | آج مریوں کا ایک اور بیٹا پہاڑوں پر آزاد بلوچستان کا خواب دل میں لئے مار دیا گیا۔
بالاچ ، نواب خیر بخش مری کے چھ بیٹوں میں وہ بیٹا تھا جس کے بارے میں عام خیال یہی تھا کہ پچھلے چند برسوں سے وہی پہاڑوں پر بلوچوں کی مزاحمتی تحریک چلا رہا تھا۔
نواب خیر بخش مری یا گونگا بابا جو ساری زندگی اپنے قوم پرست اور سوشلسٹ نظریات پر ڈٹے رہے اب اپنی جد وجہد میں اپنا بیٹا بھی کھو بیٹھے ہیں۔
سترہ جنوری انیس سو پینسٹھ میں کوئٹہ میں پیدا ہونے والے اس مری سپوت نے کوئٹہ کے گرامر سکول میں ابتدائی تعلیم کے بعد روس میں ماسکو سے سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور پھر کئی برسوں تک لندن میں رہا۔
سن دو ہزار میں جنرل مشرف کے زیر سایہ ہونے والے انتخابات میں لندن سے ہی کاغذات نامزدگی جمع کرائے اور صوبائی الیکشن میں منتخب ہونے کے بعد حلف لینے کے لئے کوئٹہ واپس پہنچا۔
اسمبلی میں حلف لیتے وقت پاکستان سے وفاداری کی بجائے بلوچستان سے وفاداری کا نعرہ بلند کیا تو ایوان میں بڑی ہلچل مچی۔
بالاچ کے بھائی گزن مری کے بقول حلف اٹھانے کے بعد انہیں حکومتی حلقوں سے قاف لیگ میں شامل ہونے اور وزارتوں کی پیشکشیں بھی ہوئیں لیکن انہوں نے انکار کردیا جس کے بعد ان کے خلاف کئی پرانے مقدمات کو تازہ کرنے کی کوشش شروع ہوئی اور وہ زیر زمین چلے گئے۔
اگست سن دو ہزار چھ میں مری علاقے میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے وقت بھی اس غار میں بالاچ مری ان کے ساتھ موجود تھے۔ ان کے بھائی گزن کے مطابق نواب بگٹی کے خلاف پاکستانی فوج کے آپریشن سے پندرہ منٹ پہلے نواب صاحب نے انہیں اور اپنے پوتے براہمداغ بگٹی کو وہاں سے جانے کے لئے کہا لیکن انہوں نے اپنے مہمان کو چھوڑ جانے سے انکار کیا جس پر نواب بگٹی نے زبردستی انہوں وہاں سے بھیجا۔
بالاچ مری پچھلے کئی برسوں سے قبائیلی معاملات کے ساتھ ساتھ بلوچ مزاحمتی تحریک کے اہم ترین رہنماؤں میں تصور کئے جاتے تھے اور حکومت پاکستان کو مطلوب بھی تھے۔
|
|
| پچھلے سال نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد بالاچ مری بلوچستان کے اہم رہنما ہیں جو ایک آپریشن میں ہلاک ہوئے ہیں۔ |
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/11/071121_balach_obit.shtml
|
|
|