BALOCHUNITY.ORG    BALOCHUNITY.ORG

mail@balochunity.org

  front page

 | ABOUT US | NEWS | FACTS | OPINIONSLETTERS | HISTORY | ECONOMY | LINKS | GUESTBOOK | FORUM 

CONTACT & SITE MAP

  BALOCHUNITY.ORG

    SEARCH 


    QUESTIONER'S 

Do you support reunification of divided Balochistan?




Vote   Results

    NEWS & OTHER LANG. NEWS

 28.08.2008

 Balochistan Human Rights Council's Press Release

BHRC strongly condemns the Killing of unarmed Baloch civilians in Turbat by Pakistani security forces Press Release The newly formed Baloch Human Rights...


 28.08.2008

 True face of ppp Government exposed by this statement

 QUETTA: If the armed Baloch groups come down from the mountains and surrender, the government will negotiate with them, Adviser on Interior Rehman Malik s...


 27.08.2008

 Gas pipe blown up near Dera Bugti

SIBBI: Unidentified militants on Tuesday blew up a 20-inch diametre gas pipeline near Dera Bugti, suspending gas supply to the area. Meanwhile some militants at...


 27.08.2008

 Strike in Balochistan on Bugti anniversary

QUETTA, Aug 26: A complete strike was observed across Balochistan on Tuesday on the call of Baloch nationalist parties.The strike was observed in Quetta and all...


 27.08.2008

 CPJ, others informed about Turbat death, injury

By Shehmir Gorgej WASHINGTON DC: The American Friends of Baluchistan has informed the Committee to Protect Journalists about the death of a man and gunshot wou...


all news >>

OTHER LANGUAGE NEWS    

’مظلوم اور کمزور ہمیشہ مذاکرات ہی چاہتے ہیں‘

05.08.2007

وقتِ اشاعت: Saturday, 04 August, 2007, 22:33 GMT 03:33 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’مظلوم اور کمزور ہمیشہ مذاکرات ہی چاہتے ہیں‘
 

 
 
 نواب خیر بخش مری
’ حکمران چاہتے ہیں کہ ہم مذاکرات کے لیے ان کے پاس دوڑ کر جائیں‘
بلوچستان کے قوم پرست رہنما اور مری قبیلے کے سردار خیر بخش مری نے کہا ہے کہ مظلوم اور کمزور ہمیشہ مذاکرات ہی چاہتے ہیں مگر حکومت جس طرح چاہتی ہے اس طرح مذاکرات نہیں ہوں گے۔

کراچی میں رہائش پذیر بزرگ رہنما نواب خیر بخش مری نے بی بی سی اردو کو دیےگئے ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ سادہ کپڑوں میں تعینات اہلکار ان کے پاس آنے والوں اور مری قبیلے کے لوگوں کی تلاشی لیتے ہیں، ان سے شناختی کارڈ کے بارے میں دریافت کیا جاتا ہے اور ڈرانے دھمکانے کے علاوہ بدسلوکی بھی کی جاتی ہے۔

انہوں نے اس تمام کارروائی کے اسباب سے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ’اگر رازق بگٹی کے قتل کے بعد یہ ہوتا تو میں سمجھتا کہ تو شاید مجھے بلوچستان لبریشن آرمی سے ملاتے ہیں اس لیے ہو سکتا تھا کہ بی ایل اے کا یہ ہنرمندانہ واقعہ انہیں برا لگا ہوگا مگر لوگوں کو ہراساں کرنے کا عمل رازق کے قتل سے پہلے سے جاری تھا‘۔

واضح رہے کہ رازق بگٹی بلوچستان حکومت کے ترجمان تھے جنہیں کچھ روز قبل قتل کیا گیا تھا اور بلوچستان لبریشن آرمی نے اس کی ذمے داری قبول کی تھی۔

 خاندان میں کوئی رہا ہی نہیں ہے اس لیے کوئی کیا الیکشن لڑے گا۔وہ تو سب بی ایل اے بنا دیےگئے ہیں۔ سرکار ان کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ اس قدر کہ بیٹیوں اور بچیوں کو بھی بی ایل اے میں شامل کر دیا گیا ہے۔
 
نواب خیر بخش مری

حکومت کی جانب سے بلوچ قوم پرست رہنماؤں سے مذاکرات کے بارے میں نواب مری کا کہنا تھا کہ’ کمزور کبھی یہ نہیں کہتا کہ وہ بندوق اٹھا کر لڑے گا وہ تو کہتا ہے کہ مجھ سے دلیل کے ساتھ بات کریں ، بندوق تو وہ اٹھاتا ہے جو طاقتور ہے، کمزور جب دیکھتا ہے کہ اور کوئی راستہ نہیں بچا ہے اس لیے وہ اپنی زندگی داؤ پر لگاتا ہے‘۔

نواب خیر بخش مری کا کہنا تھا کہ حکمران چاہتے ہیں کہ ہم ( بلوچ سردار ) مذاکرات کے لیے ان کے پاس دوڑ کر جائیں گے مگر ایسا نہیں ہوگا اور’اگر سردار عطا اللہ مینگل جائےگا تو پوچھےگا خیر بخش کیا کہتا ہے، اگر خیر بخش جائےگا تو بگٹی سے پوچھے گا کہ وہ کیا کہتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ’مذاکرات کی باتیں ایسے نہیں کہی جاتیں کہ ہم قوم پرستوں سے بات کریں گے مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذاکرات کس سے ہوں گے ؟ جو سامنے نظر آرہے ہیں ان سے یا جو انڈر گراونڈ ہیں ان سے بھی بات ہوگی‘۔

نواب مری کا کہنا تھا کہ حکمران کھلے لفظوں میں یہ کہیں کہ خیربخش ، عطااللہ اور دیگر سے مذاکرات کریں گے، تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ اب بات زیادہ آگے نکل گئی ہے اس لیے وہ مذاکرات کی بات کر رہے ہیں۔

 کمزور کبھی یہ نہیں کہتا کہ وہ بندوق اٹھا کر لڑے گا وہ تو کہتا ہے کہ مجھ سے دلیل کے ساتھ بات کریں ، بندوق تو وہ اٹھاتا ہے جو طاقتور ہے، کمزور جب دیکھتا ہے کہ اور کوئی راستہ نہیں بچا ہے اس لیے وہ اپنی زندگی داؤ پر لگاتا ہے
 
نواب مری

نواب خیر بخش مری کا کہنا تھا کہ الیکشن فائدہ مند نہیں ہیں اس لیے وہ اور ان کا قبیلہ اس میں شریک نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان میں کوئی رہا ہی نہیں ہے اس لیے کوئی کیا الیکشن لڑے گا۔’وہ تو سب بی ایل اے بنا دیےگئے ہیں۔ سرکار ان کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ اس قدر کہ بیٹیوں اور بچیوں کو بھی بی ایل اے میں شامل کر دیا گیا ہے‘۔

نواب مری کے مطابق جس ملک سے وہ چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کے الیکشن میں حصہ لیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ ان اسمبلیوں سے کچھ بہتری آئےگی ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چاہے حکومت تبدیل ہو یا سربراہ مملکت مگر بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا کیونکہ بلوچوں کی جدوجہد صرف آزادی کے لیے ہے۔

« Previous  |  Next »

• 12.11.2005 - البلوش في الخليج
• 12.11.2005 - بـــلــوشــيـــة حــــقائـــــق ومعلوم&
• 12.11.2005 - تواريخ الاحداث المصيريه في بلوشستان+و معل
• 12.11.2005 - أصول القومية البلوشية بين التعريب والتفر¡
• 12.11.2005 - البلوشي مواطن درجة ثالثة في إيران

All other lang. news

  BALOCHUNITY.ORG

    MAP 

  BALOCHUNITY.ORG

    COLUMNISTS 

 - Mir Mohammad Ali Talpur

 13.06 - Will history absolve them?
 13.05 - Testing times
 08.04 - Essentially bogus
 24.03 - Is a rollback possible?
 03.03 - Living up to the billing

 - Senator Sanaullah Baloch

 05.08 - A lesson to be learnt
 16.05 - Balochistan peace prospects
 15.05 - The Baloch-Islamabad conflict
 18.04 - State of women in Balochistan
 17.04 - Achieving consensus on NFC award

 Malik Siraj Akbar

all columnists >>

Copyright ©2007 BalochUnity.org. All rights reserved.  

Free Web Hit Counter
Online Casino

mail@balochunity.org

  front page

 | ABOUT US | NEWS | FACTS | OPINIONSLETTERS | HISTORY | ECONOMY | LINKS | GUESTBOOK | FORUM 

CONTACT & SITE MAP